لاہور (پنجاب پوسٹ) نارووال کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوئی کہ نوجوان صبح اپنے کتے کے ساتھ گھر سے نکلا تھا اور واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے تلاش شروع کی تو نالہ بسنتر کے کنارے اس کی گھڑی، جوتے اور موبائل فون ملے، جس پر ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی واٹر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر اورنگزیب کی نگرانی میں بوٹ ببلنگ، لائن سرچ اور سکوبا ڈائیونگ کے ذریعے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ پہلے روز اندھیرا بڑھ جانے کے باعث آپریشن عارضی طور پر روک دیا گیا، جبکہ دوسرے روز دوبارہ سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ریسکیو 1122 نارووال نے تقریباً 30 گھنٹے 40 منٹ مسلسل واٹر سرچ آپریشن کے بعد نالہ بسنتر میں ڈوبنے والے 20 سالہ نوجوان حبیب جمال ولد محمد امین، سکنہ گاؤں قیام پور، شکرگڑھ روڈ نارووال کی ڈیڈ باڈی ڈوبنے کی جگہ سے تقریباً 1.2 کلومیٹر کے فاصلے سے تلاش کر لی۔
آپریشن کے دوران نوجوان کے ساتھ موجود کتے کی مردہ لاش بھی برآمد ہوئی، جبکہ مسلسل سرچ کے بعد نوجوان کی لاش بھی تلاش کر لی گئی۔
آپریشن میں 12 ریسکیورز، 6 تربیت یافتہ ریسکیو سکاؤٹس نے حصہ لیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر اورنگزیب نے کہا ریسکیو 1122 کے اہلکار ہر قسم کی ہنگامی صورتحال میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ دریا، نہروں اور نالوں میں نہانے یا غیر ضروری طور پر داخل ہونے سے گریز کریں، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر اطلاع دیں۔













