لاہور(پنجاب پوسٹ)گھروں میں کئی کئی فٹ پانی جمع، متاثرہ خاندان بالائی منزلوں پر منتقل، نکاسی آب میں تاخیر پر شہریوں کا فوری امداد اور ریلیف کا مطالبہ رچنا ٹاؤن اور گلشنِ عطار میں حالیہ سیلابی صورتحال نے شہریوں کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ آٹھ روز گزر جانے کے باوجود متعدد گلیوں، سڑکوں اور رہائشی آبادیوں میں کئی کئی فٹ پانی تاحال کھڑا ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ گھروں میں پانی داخل ہونے سے متعدد خاندان گراؤنڈ فلور چھوڑ کر بالائی منزلوں پر منتقل ہونے پر مجبور ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
سیلابی پانی کے مسلسل جمع رہنے کے باعث گھروں کا سامان، فرنیچر اور دیگر قیمتی اشیاء کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ پانی کی موجودگی نے آمدورفت کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے، جبکہ بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں شہری ضروری اشیائے خورونوش اور ادویات تک پہنچنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث آٹھ دن گزرنے کے باوجود پانی کم ہونے کے بجائے کئی مقامات پر بدستور موجود ہے۔ شہریوں کے مطابق مسلسل کھڑے پانی سے تعفن پھیلنے اور وبائی امراض کے خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
رہائشیوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کے لیے اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان فراہم کیا جائے، جبکہ مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ڈرینیج نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بار بار اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔













