لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب بورڈ برائے سرمایہ کاری و تجارت کے زیر اہتمام صوبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر ایک خصوصی بریفنگ سیشن منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کی۔ سیشن میں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری محمد حنیف چنہ کی قیادت میں امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کے 22 رکنی وفد، ایس آئی ایف سی کے نمائندوں، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ، سیکرٹریز اور صنعتکاروں نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران مختلف محکموں کے سربراہان نے زراعت، توانائی، معدنیات، ٹیکسٹائل، سرجیکل انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کیا۔ چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین وقت اور سازگار ماحول موجود ہے، جبکہ سپیشل اکنامک زونز میں عالمی معیار کا صنعتی انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، بالخصوص پنجاب اور امریکہ کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جس کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب جدید زراعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں اور پنجاب و امریکہ جدید زرعی آلات، سویا بین کی کاشت، سیڈ ڈویلپمنٹ اور زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مل کر کام کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے امریکی سرمایہ کاروں کو سپیشل اکنامک زونز میں جدید زرعی آلات کی مینوفیکچرنگ کے کارخانے لگانے کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تیار ہونے والے 90 فیصد سرجیکل آلات امریکہ اور کینیڈا برآمد کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیالکوٹ میں سرجیکل سٹی اور قائد آباد میں پنک سالٹ کی ویلیو ایڈیشن کے لیے نئی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں الیکٹرک موٹر بائیکس کی اسمبلنگ کے متعدد پلانٹس کام کر رہے ہیں، جبکہ کئی چینی کمپنیاں لیتھیئم بیٹریوں کی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور شیخوپورہ کے قائداعظم بزنس پارک میں جدید گارمنٹ سٹی قائم کی جا چکی ہے۔
امریکی وفد نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔













