فیروزوالہ میں سیلابی صورتحال کا آٹھواں روز، پانی کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگا، متاثرہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک

فیروزوالہ(پنجاب پوسٹ)نالہ بھیڈ اور نالہ ڈیک میں حالیہ ریکارڈ بارشوں کے باعث آنے والے شدید سیلاب کے نتیجے میں حفاظتی بند متعدد مقامات سے ٹوٹ گئے، جس سے درجنوں دیہات اور شہری آبادیاں زیرِ آب آ گئیں۔ سیلابی صورتحال کو آٹھ روز گزرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں مشکلات کم نہ ہو سکیں، جبکہ کئی مقامات پر پانی کی سطح مزید بلند ہونے لگی۔

تفصیلات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں ہزاروں افراد بدستور محصور ہیں اور انہیں خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات اور آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعلقہ سرکاری ادارے، فلاحی تنظیمیں اور سماجی ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور متاثرین تک راشن، پکا ہوا کھانا، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اب تک سیلاب کے باعث آٹھ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جبکہ زہریلے سانپ کے کاٹنے کے تین واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی و رکن پنجاب اسمبلی پیر اشرف رسول دن رات امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کی ہدایت پر مختلف مقامات پر فری میڈیکل کیمپس اور سیلابی ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

دوسری جانب فلاحی تنظیم مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بھی متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں اور سیلاب متاثرین کو پکا ہوا کھانا، راشن اور صاف پانی فراہم کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے