لاہور(پنجاب پوسٹ) صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت مثالی گاؤں پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات شکیل احمد، سپیشل سیکرٹریز شاہد زمان لک اور ارشد بیگ نے بھی شرکت کی، جبکہ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی (پی آر ایم ایس سی) کے سی ای او خرم پرویز نے منصوبے پر بریفنگ دی۔
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے ویژن کے مطابق صوبہ بھر کے 485 دیہات میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 9 دیہات میں کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جولائی کے دوران 40 مثالی گاؤں کا ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چک 70 ای بی (پاکپتن)، چک 99 (لودھراں) اور غنیئے کے گاؤں (قصور) میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چک 81 ڈبلیو بی (وہاڑی)، پنڈی امولک (نارووال) اور دری چاچڑاں (رحیم یار خان) میں بھی کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ گاؤں ریکھڑا، چک 2 (ڈی جی خان) اور بلارکے (شیخوپورہ) میں بھی ترقیاتی سکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذیشان رفیق نے کہا کہ پی آر ایم ایس سی کی نگرانی میں 124 دیہات میں تیز رفتاری سے کام جاری ہے، جبکہ نئے بجٹ میں اضافی فنڈز کی فراہمی سے مقررہ اہداف کے حصول میں مزید آسانی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اگلے مرحلے میں مزید دیہات کو مثالی بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
وزیر بلدیات نے واضح کیا کہ ہر مثالی گاؤں میں گلیوں کو پختہ کیا جائے گا، سیوریج سسٹم قائم کیا جائے گا، جبکہ سٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور پارکس کی تعمیر بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے دیہی علاقوں میں رہائش کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔












