ویلنشیا ٹاؤن میں ماں اور بچوں کا قتل، ماں نے زہر کہاں سے خریدا؟ کتنے میں ڈیل ہوئی؟ بچوں کو زہر کب دیا گیا؟ لرزہ خیز انکشافات

لاہور (پنجاب پوسٹ) ویلنشیا ٹاؤن میں پاکستانی نژاد امریکن خاتون اور تین بچوں کی ہلاکت کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ خاتون نے امریکہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں کیمیکل فروخت کرنے والے شخص سے رابطہ کیا اور مطلوبہ زہر پوٹاشیم سائنائڈ امریکہ بھجوانے کی درخواست کی، تاہم دوکاندار نے انکار کر دیا۔ بعد ازاں خاتون نے چونگی امرسدھو کے کیمیکل شاپ کے مالک کو منی گرام کے ذریعے 1 لاکھ 38 ہزار 540 روپے ادا کر کے زہر خریدا۔ دوکاندار نے یہ زہر اکبری منڈی سے تقریباً 6 ہزار روپے میں حاصل کیا۔
خاتون نے دوکاندار کو بتایا کہ وہ پاکستان آ کر زہر خود وصول کرے گی۔ بعد ازاں پاکستان پہنچ کر اس نے زہر اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا، جہاں سے رائیڈر وقوعہ سے ایک روز قبل پارسل ویلنشیاء ٹاؤن میں خاتون کے گھر پہنچا گیا۔
پولیس کے مطابق خاتون اکثر اپنے موبائل فون پر خودکشی اور اہلخانہ کو قتل کرنے کے طریقے سرچ کرتی رہتی تھی۔ موبائل ریکارڈ اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر پولیس نے رائیڈر، چونگی امرسدھو کے کیمیکل شاپ کے مالک اور اکبری منڈی سے کیمیکل فراہم کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا، جبکہ بعد ازاں کیمیکل شاپ کے مالک اور رائیڈر کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔


ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے مطابق امریکن نیشنل خاتون اپنے شوہر ناصر ڈوگر اور تین بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور آئی اور ویلنشیاء ٹاؤن میں کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھی۔ 16 جولائی کو خاتون نے اپنی دوست کے ہمراہ نجی پیزا شاپ پر کھانا کھایا اور اسی روز کیمیکل والا پارسل وصول کیا۔
17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائڈ ملا کر اپنے 15 سالہ ریحان، 11 سالہ اریشاء اور 9 سالہ ارسل کو کھلا دی۔ بچوں کو زہر آلود آئس کریم کھلانے کے بعد خاتون نے خود بھی وہی آئس کریم کھا لی۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر ناصر ڈوگر کو بھی زہر ملی آئس کریم کھلانے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، شواہد اور تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون نے پہلے اپنے تین بچوں کو زہر دے کر قتل کیا اور بعد ازاں خودکشی کر لی۔ ان کے بقول خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھی اور آن لائن مرنے کے طریقے تلاش کرتی رہتی تھی۔
پولیس نے شوہر ناصر ڈوگر کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا، جس میں اس سے 8 سوالات پوچھے گئے اور وہ ٹیسٹ میں سچا ثابت ہوا۔ اس کی مکمل تفتیش کے بعد اسے واقعے میں ملوث نہیں پایا گیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان کو پیشہ ورانہ مہارت، موبائل ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس، پراسیکیوشن کے تعاون سے مضبوط چالان تیار کر کے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائے گی۔ سید ذیشان رضا نے پولیس ٹیم کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے