اب پنجاب میں سیلاب کو روکا جائے گا، سیلاب سے روک تھام کا پنجاب حکومت کا تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ کیا ہے؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں مون سون بارشوں، ممکنہ سیلابی صورتحال اور دریاؤں کے کٹاؤ سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا خصوصی اجلاس پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر اور چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق نے کی، جبکہ مختلف ڈویژنز کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں ریسکیو، ریلیف، حفاظتی منصوبوں، فلڈ ریلیف کیمپس، فنڈز کی فراہمی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد سیف انور جپہ نے مون سون بارشوں، ممکنہ اربن فلڈنگ، دریائی سیلاب اور حفاظتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر شیخوپورہ میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ صوبے بھر میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق پنجاب کو فلڈ ریزیلنٹ بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ریسکیو اداروں کو اربوں روپے مالیت کے جدید آلات فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران اداروں کی مثالی کارکردگی سامنے آئی تھی اور رواں سال بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں گجرات، جہلم، جھنگ، مظفرگڑھ، گوجرانوالہ، قصور، شیخوپورہ، لیہ، نارووال، سیالکوٹ، ننکانہ صاحب اور سرگودھا سمیت مختلف اضلاع میں دریاؤں کے کٹاؤ سے بچاؤ کے زیر التواء اور مجوزہ حفاظتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ دریائے چناب، جہلم، راوی، سندھ اور بین نالہ کے کناروں پر حفاظتی بندوں کی مضبوطی، زرعی اراضی اور دیہات کے تحفظ، نالہ ڈیک پر شگاف کی صورتحال اور ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں فلڈ 2025 کے بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے ایک ارب 294 کروڑ روپے کے فنڈز کے اجرا کی درخواست، ننکانہ صاحب میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فنڈز، اور متاثرہ علاقوں میں فوری حفاظتی اقدامات سمیت مستقبل کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈی جی پی ڈی ایم اے محمد سیف انور جپہ نے کہا کہ پری ڈیزاسٹر اور پوسٹ ڈیزاسٹر میکانزم کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، پی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور تمام ضروری وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حساس اضلاع میں فلڈ ریلیف کیمپس کی نشاندہی مکمل ہو چکی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو یقینی بنایا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے