ملتان(پنجاب پوسٹ) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے خواتین کو غیر قانونی طریقے سے یورپ منتقل کرنے میں ملوث مبینہ بین الاقوامی انسانی سمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی کے دوران ایک خاتون مسافر کو آف لوڈ کر کے مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ نیٹ ورک سے وابستہ ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق سائرہ ناہید نامی خاتون مسافر وزٹ ویزے پر فلائٹ نمبر FZ340 کے ذریعے ترکی روانہ ہو رہی تھی۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران اس کی سفری تفصیلات اور بیانات مشکوک محسوس ہونے پر اسے روک کر پوچھ گچھ کی گئی، جس کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے۔
ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ خاتون کا اصل مقصد ترکی میں قیام نہیں بلکہ وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے اٹلی پہنچنا تھا۔ منصوبے کے مطابق ترکی میں موجود انسانی سمگلنگ گینگ کے کارندے خاتون کو ریسیو کرتے، بعد ازاں اسے غیر قانونی بارڈر کراس کرا کر یورپ منتقل کرتے۔ایف آئی اے کے مطابق خاتون فیصل آباد کے ایک مبینہ ایجنٹ کے رابطے میں تھی، جس نے اسے اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دے کر 10 لاکھ روپے بطور ایڈوانس وصول کیے، جبکہ باقی رقم اٹلی پہنچنے کے بعد ادا کی جانی تھی۔ اس انکشاف کے بعد ایجنٹ اور اس کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ انسانی سمگلنگ میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ خاتون مسافر کو آف لوڈ کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ انسانی سمگلنگ کے اس منظم نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور ایجنٹوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔













