50لاکھ ڈوبے، گھر کا سامان،زیور ،دوستوں کے پیسوں سے سرمایہ کاری، کوئی ثبوت نہیں ملا جو فراڈ ثابت کرتا ہو، لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ

لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے کرپٹو کرنسی سے متعلق درج مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم حماد علی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی عبوری ضمانتیں منظور کر لیں۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔


عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو درخواست گزاروں کو الیکٹرانک فراڈ، دھوکا دہی، جعلسازی یا مدعی کے کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس منجمد ہونے کے واقعے سے جوڑتا ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف آئی آر میں جن جرائم کا ذکر کیا گیا، وہ بادی النظر میں درخواست گزاروں کے خلاف ثابت نہیں ہوتے۔


عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تفتیشی افسر کو ہر اکاؤنٹ ہولڈر کے کردار کا الگ الگ جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔ درخواست گزار تفتیشی افسر کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کر چکے ہیں، جبکہ تفتیشی افسر متعلقہ اداروں سے مزید ریکارڈ بھی طلب کر سکتا ہے۔


فیصلے کے مطابق مدعی نے ابتدائی طور پر کرپٹو کرنسی میں 50 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ بعد ازاں مارکیٹ میں کمی آنے سے اسے مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ عدالت نے فیصلے میں مدعی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس نے نقصان پورا کرنے کی امید میں گھر کا سامان، گاڑی اور سونا فروخت کرکے مزید رقم کرپٹو کرنسی میں لگائی، تاہم بعد میں اس کے کرپٹو اکاؤنٹس منجمد ہو گئے۔


عدالت کے مطابق مدعی نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی رقم دوستوں کے اکاؤنٹس کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی، جبکہ اس کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ملزمان نے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپٹو شیئرز خریدے لیکن رقم واپس نہیں کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان تمام نکات کی مزید تفتیش ہونا باقی ہے، تاہم موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر درخواست گزاروں کو عبوری ضمانت کا ریلیف دیا جاتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے