لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ:رینٹ کیسز میں یکطرفہ کارروائی سے پہلے کیا قانونی اصول اپنانا لازمی قرار؟

لاہور(پنجاب پوسٹ )ہائیکورٹ نے کرایہ داری مقدمات میں یکطرفہ کارروائی کے طریقہ کار سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف رینٹ ٹربیونل کا یکطرفہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس مزمل اختر شبیر نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے رینٹ مقدمات سے متعلق عدالتی نظیر قرار دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ انصاف میں غیر ضروری تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، جبکہ انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری عجلت بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کرایہ داری قانون کے تحت کسی بھی فریق کے خلاف یکطرفہ کارروائی شروع کرنے سے قبل قانونی تقاضوں کے مطابق کم از کم دس روز کا وقت دینا ضروری ہے۔ فیصلے کے مطابق مخالف فریق اس مدت کے دوران عدالت سے رجوع کرتے ہوئے پیروی کی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتا ہے، جسے قانون کے مطابق سنا جانا چاہیے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اگر یکطرفہ کارروائی قانونی طریقہ کار کے برخلاف کی جائے تو اس کی بنیاد پر دیا گیا فیصلہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔

عدالت نے رینٹ ٹربیونلز کو ہدایت کی کہ یکطرفہ کارروائی سے قبل نوٹس کی مؤثر اور قانونی ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع مل سکے۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ رینٹ ٹربیونل نے کرایہ داری قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا اور پیروی کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ بھی قانون کے مطابق نہیں تھا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے رینٹ ٹربیونل اور ماتحت عدالت دونوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت تصور کیا جائے اور چار ماہ کے اندر میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔ مزید حکم دیا گیا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران غیر ضروری التوا سے گریز کیا جائے اور فریقین کی التوا کی درخواستیں منظور نہ کی جائیں تاکہ مقدمے کا بروقت فیصلہ ممکن بنایا جا سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے