بلاول، مریم، فارم 47 کی پیداوار، کشمیر میں ایک دوسرے کے پول کھول رہے،حکومت نے لیوی سے 8ہزار ارب روپے کمائے،11 ارب کا جہاز، 9 کروڑ کی گاڑی بیچ کر عوام کو ریلیف دیں، حافظ نعیم

لاہور(پنجاب پوسٹ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عوام خصوصاً کسانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اثر زندگی کے ہر شعبے پر پڑتا ہے، لیکن جب پٹرول سستا ہوتا ہے تو دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ پونے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ صرف ایک سال میں 1900 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جن افراد پر ٹیکس بنتا ہی نہیں، ان سے بھی 12 ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اپنے اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے اور اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اشرافیہ کو ریلیف دینے کے بجائے عام شہری کا خون نچوڑ رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وکلا، اساتذہ، ڈاکٹرز، طلبہ اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس احتجاج میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے خیبر تک شاہراہوں پر عوام نکلیں گے اور یہ دنچ کا اہم مرحلہ ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور صرف ایمبولینسز کو راستہ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پرامن سیاسی جدوجہد کو روکنے کی کوشش نہ کرے اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے دیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک میں وسائل موجود ہیں لیکن حکمران طبقہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی مراعات میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہنگے سرکاری اخراجات کم کیے جائیں، قیمتی گاڑیاں اور جہاز فروخت کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے، جبکہ بیوروکریسی اور اعلیٰ افسران بھی قربانی دیں۔

سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں اور انتخابی نتائج پر سوالات اٹھا رہی ہیں، جس سے نظام پر اعتماد مزید کمزور ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 7 اگست کا احتجاج صرف آغاز ہے، اس کی آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی گولی اور گالی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پرامن طریقے سے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے