لاہور(پنجاب پوسٹ)خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے خاتمے اور متاثرہ خواتین کو فوری قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے قائم ورچوئل وویمن پولیس اسٹیشن مسلسل 24 گھنٹے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ رواں سال ادارے کو موصول ہونے والی ہزاروں شکایات پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو قانونی رہنمائی، تحفظ اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی گئی، جبکہ لاہور پولیس نے خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق رواں سال ورچوئل وویمن پولیس اسٹیشن کو 60 ہزار 300 سے زائد کالز موصول ہوئیں، جن میں خواتین کے خلاف تشدد، ہراسگی، گھریلو تنازعات اور دیگر صنفی جرائم سے متعلق شکایات شامل تھیں۔ ان میں سے ساٹھ ہزار سے زائد کالز پر قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ 295 درخواستوں پر تاحال انکوائری جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق موصول ہونے والی شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 858 مقدمات بھی درج کیے گئے، جس سے متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مدد ملی۔سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر لاہور پولیس زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورچوئل وویمن پولیس اسٹیشن خواتین کو قانونی رہنمائی، تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔بلال صدیق کمیانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لاہور کو خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ ترین شہر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنفی جرائم، ہراسگی اور تشدد کا شکار خواتین کی مدد کے لیے محکمہ پولیس شب و روز متحرک ہے تاکہ ہر متاثرہ خاتون کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔سی سی پی او لاہور نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ خواتین سے متعلق مقدمات میں متاثرہ فریق کے احترام، رازداری اور عزتِ نفس کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم پر بروقت کارروائی، میرٹ پر تفتیش اور فوری انصاف کی فراہمی لاہور پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔













