اب کچے کے علاقے میں بھی سی سی ٹی وی اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں پنجاب پولیس اہلکاروں کی وردی پر 29 ہزار کیمرے لگ جائیں گے، مریم نواز کو بریفنگ

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب حکومت نے ریپ، بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی جیسے سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ اداروں سے فول پروف پلان طلب کر لیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں جرائم کے سدباب، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور پولیس اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 43 اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اس کا باقاعدہ افتتاح جلد متوقع ہے۔ مزید برآں سیف سٹی منصوبے کو 98 مزید تحصیلوں اور کچے کے علاقوں تک توسیع دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں 2 ہزار سے زائد نئے سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران سی ٹی ڈی میں توہینِ رسالت کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ موبائل پولیس اسٹیشنز کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جائے تاکہ جو شہری تھانے نہیں آ سکتے، پولیس خود ان کے گھروں تک پہنچ کر داد رسی کرے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد صوبے میں کرائم ریٹ میں واضح کمی آئی ہے، اور خواتین و بچے ان کی ریڈ لائن ہیں، ان کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک پولیس اہلکاروں کے لیے 29 ہزار باڈی کیمرے فراہم کر دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ صوبے میں سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی سائبر یونٹ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ صوبے بھر سے اب تک 1 لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھجوایا جا چکا ہے جبکہ سال 2026 میں اب تک 23 ہزار 243 غیر قانونی باشندوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 5 ہزار 127 غیر قانونی افغان باشندوں کو ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں ساڑھے 12 لاکھ افراد کی دستاویزی اور بائیومیٹرک تصدیق مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے اور 72 ہزار سے زائد آئمہ کے لیے 10 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں قبائلی علاقوں کی ترقی اور سکیورٹی کے لیے مزید اہلکاروں کو فورس میں شامل کرنے، اور ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شفاف انعقاد کے لیے مکمل انتظامات کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب میں قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے