لاہور(پنجاب پوسٹ) پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے رہنماؤں نے آزاد کشمیر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور حکومتی مداخلت کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
کنوینئر پاکستان پیپلز پارٹی لاہور مجید غوری نے کہا کہ 2 اگست کو تیر کا نشان کامیاب ہوگا اور شیر کا شکار کرے گا۔
اس موقع پر میاں شاہد عباس، انچارج پیپلز پارٹی الیکشن سیل، نے کہا کہ میرپور ڈویژن میں پنجاب حکومت، وفاقی حکومت اور سرکاری مشینری نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں دھاندلی اور بدعنوانی کی گئی، جبکہ مسلم لیگ (ن) نظام کو خرید کر انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی لاہور ان اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ریاستی اداروں کو ان کے آئینی دائرہ کار میں کام کرنے دیا جائے، ملک میں بادشاہت نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر کشمیر انتخابات میں تقریباً 25 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے، لیکن بعد میں ٹرن آؤٹ 90 فیصد تک ظاہر کیا گیا، جس پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار ہونے چاہئیں، اور لاہور کے انتخابات میں کسی بھی قسم کی انتخابی دھاندلی یا ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پنجاب حکومت کے وزراء اور حکومتی مشینری انتخابی مہم میں سرگرم ہیں، جس کا الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے اور قبل از انتخاب دھاندلی کا سدباب کرے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احمد رحمان گھمن، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی لاہور، نے کہا کہ میرپور کا الیکشن بھی اسی طرز پر ہوا جیسے مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابات جیتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ہمیشہ سیاسی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف غیر مناسب زبان استعمال کرنے والوں کو روکا جانا چاہیے۔ احمد رحمان گھمن نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت موجودہ سیاسی نظام سے الگ ہو جائے تو اس نظام کو اپنی حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔













