لاہور (پنجاب پوسٹ) پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات، جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی اور نئی حکومتی پالیسیوں کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) نے ایک بار پھر حکومت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں پہلے سے زیادہ مؤثر احتجاج کی دھمکی دے دی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج کی فراہمی شدید مشکلات کا شکار ہے جبکہ ڈاکٹروں کو بھی مختلف انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔
صدر وائے ڈی اے ڈاکٹر شعیب نیازی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے بیشتر سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات دستیاب نہیں، جبکہ سی ٹی سکین سمیت متعدد تشخیصی ٹیسٹ مریضوں سے فیس وصول کر کے نجی لیبارٹریوں سے کروائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہسپتالوں میں ادویات نہ ہونے کے باعث مریضوں کو باہر سے دوائیں خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ڈاکٹر مریض کو باہر سے دوا خریدنے کا مشورہ دے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب مریض او پی ڈی میں گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹر شعیب نیازی کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں موجودہ انتظامی پالیسیوں نے نہ صرف ڈاکٹرز بلکہ مریضوں کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
وائے ڈی اے کے صدر نے مزید کہا کہ ایف سی پی ایس سمیت دیگر امتحانات کے بعد اب پوسٹ انڈکشن ٹیسٹ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کی فیس 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایڈہاک ملازمتوں کا خاتمہ کر کے لوکم سسٹم متعارف کرا رہی ہے، جبکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن (پی پی ایس سی) کے ذریعے کامیاب ہونے والے ڈاکٹرز کو بھی تاحال جوائننگ نہیں دی گئی۔ڈاکٹر شعیب نیازی نے بتایا کہ سیکرٹری ہیلتھ کے والد کے انتقال کے باعث دھرنا اور بھوک ہڑتال وقتی طور پر مؤخر کی گئی، تاہم اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ احتجاج پہلے سے زیادہ مؤثر اور بھرپور ہوگا.













