ساہیوال ( پنجاب پوسٹ)ساہیوال میں 35 فٹ گہرے کنویں میں مٹی کا تودہ گرنے سے دبنے والے دو مزدور، ریسکیو 1122 نے سات گھنٹے کے کامیاب آپریشن کے بعد زندہ نکال لیا
ریسکیو حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے راﺅ صداقت کا ڈیرہ، اڈہ بوٹی پل، اولڈ ہڑپہ روڈ پر واقع تقریباً 35 فٹ گہرے پرانے کنویں سے اینٹیں نکالنے کے دوران اچانک کنویں کی دیوار اور مٹی کا بڑا تودہ گر گیا، جس کے نتیجے میں دو مزدور مٹی تلے دب گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی جائزے کے بعد علاقے کو محفوظ بنایا گیا اور جدید ریسکیو آلات، ہیوی مشینری (دو ایکسکیویٹرز) اور پیشہ ورانہ حکمت عملی کے تحت سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے دونوں مزدوروں کو بحفاظت زندہ ملبے سے نکال لیا۔ موقع پر فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد دونوں زخمیوں کو مزید علاج کے لیے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں کی عمریں تقریباً 17 سال اور 35 سال ہیں۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 28 جولائی صبح 10 بجے ریسکیو 1122 کنٹرول اینڈ کمانڈ روم ساہیوال کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ راؤ صداقت کا ڈیرہ اڈہ بوٹی پال اولڈہڑپہ روڈ واقع 35 فٹ گہرا کنواں اچانک مندم ہو گیا جس کے نتیجے میں دو مزدور ملبے تلے دب گئے۔ اطلاع موصول ہوتے ہی ریسکیو کی ٹیمیں فوری موقع پر پہنچ گئیں
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال کی ذاتی نگرانی میں جدید ریسکیو آلات، ہیوی مشینری اور پیشہ وارانہ مہارت کیساتھ امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ساہیوال بھی موجود تھے۔
گرمی کی شدت میں تقریبا 8 سے 10 گھنٹے جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے بعد دونوں مزدوروں کو زندہ بحفاظت نکال لیا گیا۔ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد دونوں مزدوروں کو علاج کیلئے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو آپریشن کی کامیاب تکمیل پر ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا کہنا تھا کہ 45 ڈگری میں دو جانیں 40 فٹ منوں مٹی میں سے زندہ نکالنا بالکل نا امیدی کی صورتحال تھی لیکن اللّہ تعالی نے معجزہ کیا اور دونوں مزدور بحفاظت نکال لیے گئے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ مجھے بالکل امید نہیں تھی کہ مزدور زندہ نکل پائیں گے لیکن ریسکیو ٹیم نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے کام کو پوری لگن سے کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 2 قیمتی جانیں بچائی ہیں اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ انہوں نے ریسکیو ٹیم کے کام، پیشہ وارانہ صلاحیت اور انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں شاباشی دی۔

ریسکیو 11220 نے سیفٹی میسیج دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرانے کنوؤں، زیرِ تعمیر گڑھوں اور کھدائی کے مقامات پر کام کرتے وقت حفاظتی اقدامات، مناسب شٹرنگ اور حفاظتی آلات کا استعمال یقینی بنائیں، خصوصاً مون سون کے موسم میں کمزور مٹی کے باعث حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے













