پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری میں مبینہ کرپشن پر پنجاب اسمبلی میں تحریکِ التواء، خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے؟

لاہور (پنجاب پوسٹ)پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن راجہ شوکت محمود نے پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے معاملے پر تحریکِ التواء جمع کرا دی ہے۔ تحریک میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں، جس کے باعث سینکڑوں خاندان گزشتہ کئی برس سے متاثر ہیں اور انصاف کے منتظر ہیں۔
تحریک کے متن کے مطابق، سال 2017 میں پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے مبینہ طور پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ٹاؤن تھری ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ منصوبے کے لیے اپنے سگے بھائی کو بطور ڈیویلپر منتخب کرتے ہوئے معاہدہ کیا گیا، جبکہ اس ڈیویلپر کو تقریباً 2 ارب 70 کروڑ روپے کی ادائیگی بھی کی گئی۔


تحریک میں مزید کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے باوجود نہ تو منصوبے پر عملی طور پر کوئی ترقیاتی کام کیا گیا اور نہ ہی کسی الاٹی کو پلاٹ فراہم کیا گیا۔ اس صورتحال کے باعث تقریباً 900 خاندان گزشتہ نو برس سے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے مسلسل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
متن میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعدد شکایات سامنے آنے کے باوجود مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف اب تک کوئی مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے متاثرین میں بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔
راجہ شوکت محمود نے پنجاب اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹاؤن تھری معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی جائے، تمام ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
تحریک میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری ہاؤسنگ اسکیم ماضی میں بھی مبینہ انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث عوامی اور تحقیقی حلقوں میں زیرِ بحث رہی ہے، اس لیے اس معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے