چہلم حضرت امام حسینؑ پنجاب میں تمام مسالک کے علما کی مذہبی ہم آہنگی کی انوکھی مثال

لاہور(پنجاب پوسٹ) چہلم حضرت امام حسینؑ اور عرس حضرت داتا گنج بخشؒ کے سلسلے میں لاہور میں سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر فیصل کامران نے مرکزی جلوس کے روٹ کا پیدل معائنہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

الف شاہ حویلی سے کربلا گامے شاہ تک مرکزی جلوس کے مکمل روٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لاہور، جلوس منتظمین اور متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ روٹ کے حساس مقامات پر سیکیورٹی، نفری اور رسپانس پلان کا جائزہ لیا گیا جبکہ منتظمین سے ٹریفک مینجمنٹ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے مشاورت بھی کی گئی۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق چہلم کے مرکزی جلوس کے آغاز سے اختتام تک فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ ہوگا، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، جدید کمیونیکیشن سسٹم اور کنٹرول روم مسلسل فعال رہیں گے۔ حساس مقامات پر بم ڈسپوزل اسکواڈ، سرچ ٹیمیں اور خصوصی اسنیپ چیکنگ ہر وقت الرٹ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس عزاداروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور شہریوں سے اپیل کی کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں۔

دوسری جانب لاہور امن کمیٹی کا ڈویژنل اجلاس کمشنر لاہور نعمان یوسف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں آر پی او شیخوپورہ رینج اطہر اسماعیل، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی سی لاہور اور دیگر اداروں کے افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں علماء اکرام اور آئمہ عظام نے بھی شرکت کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

کمشنر لاہور نے کہا کہ امن، برداشت اور مذہبی ہم آہنگی اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور علماء کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ممکنہ بارشوں کے پیش نظر چہلم اور عرس کے مقامات پر نکاسی آب کے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ لاہور میں چہلم کے 12 جلوس نکالے جائیں گے جن میں دو مرکزی جلوس شامل ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے لیے 240 اضافی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ لیسکو، واسا، ریسکیو 1122، سیف سٹی، محکمہ صحت اور دیگر اداروں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق فول پروف سیکیورٹی، مؤثر ٹریفک مینجمنٹ اور بروقت رسپانس کے ذریعے چہلم اور عرس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے