لاہور(پنجاب پوسٹ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے انقلابی "لیب آن ویلز” منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کسانوں کو مٹی اور پانی کی سائنسی جانچ، فوری رپورٹ، جدید زرعی رہنمائی اور ماہرین کی مشاورت براہِ راست ان کے کھیتوں پر فراہم کی جائے گی تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
"لیب آن ویلز” کے ذریعے موبائل لیبارٹری ٹیم کسان کے کھیت پر پہنچ کر مٹی اور پانی کے نمونے موقع پر حاصل کرے گی اور جدید سائنسی آلات کے ذریعے فوری تجزیہ کرے گی۔ مٹی کی پی ایچ (pH)، الیکٹریکل کنڈکٹیوٹی (EC) اور نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم (NPK) سمیت دیگر بنیادی غذائی اجزاء کی جانچ آن دی سپاٹ کی جائے گی۔
تمام ٹیسٹنگ نتائج فوری طور پر موبائل ایپ میں درج کیے جائیں گے اور تجزیہ مکمل ہوتے ہی مٹی اور پانی کی تفصیلی سائنسی رپورٹ موقع پر جاری کر دی جائے گی۔ یہ رپورٹ کسان کو ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی ارسال کی جائے گی تاکہ وہ اپنے موبائل فون پر ایک کلک سے مکمل ڈیجیٹل رپورٹ دیکھ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:محکمہ توانائی کی شاندار کارکردگی، حکومت پنجاب کو 2 ارب روپے کا عبوری ڈیویڈنڈ
رپورٹ میں زمین کی ضرورت کے مطابق متوازن کھادوں کے استعمال، موزوں فصلوں کے انتخاب اور زمین کی زرخیزی بہتر بنانے کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ زرعی ماہرین کسانوں کو ان کے کھیت پر ہی آمنے سامنے رہنمائی اور مشاورت بھی فراہم کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مٹی کی درست جانچ اور متوازن کھادوں کا استعمال پنجاب کو زرعی طور پر خودکفیل بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی زراعت کو روایتی طریقوں سے نکال کر سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں داخل کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومت کا ہدف کسانوں کی پیداواری لاگت کم کرنا اور فی ایکڑ پیداوار و آمدن میں اضافہ کرنا ہے۔
منصوبے کی شفافیت اور مؤثر نگرانی کے لیے سینٹرل کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جہاں سے تمام موبائل لیبارٹریوں کی ریئل ٹائم جی پی ایس ٹریکنگ، لائیو کیمرہ اسٹریمنگ اور ڈیش بورڈ مانیٹرنگ کی جائے گی۔ کسان کی درخواست موصول ہوتے ہی موبائل لیب کا شیڈول وزٹ مرتب کیا جائے گا جبکہ ڈسٹرکٹ لیب انچارج کی منظوری کے بعد ٹیم متعلقہ کھیت کا دورہ کرے گی۔ موبائل ایپ کے ذریعے فیلڈ ٹیم کی موقع پر حاضری بھی رجسٹر کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے ریئل ٹائم کلاؤڈ ڈیٹا اسٹوریج کی مدد سے پنجاب کا ڈیجیٹل جی پی ایس سوئل میپ تیار کیا جائے گا، جس سے زمین کی صحت، فصلوں کی بہتر منصوبہ بندی اور پائیدار زراعت کو فروغ ملے گا۔ سالانہ 20 ہزار مٹی کے نمونوں کی جانچ، 500 کسان فیلڈ ڈیز کے انعقاد اور 15 ہزار کسانوں کی تربیت کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔













