میٹرو بس اور اورنج لائن میں پرانے کارڈز اور ٹوکنز بند؛ نیا T-Cash سسٹم نافذ

لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور کے ماس ٹرانزٹ نیٹ ورک نے میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین اور اسپیڈو بس سروسز کے لیے روایتی ٹوکنز اور پرانے ٹریول کارڈز کا استعمال مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور مسافروں کو جدید ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے انچارج عزیر شاہ کے مطابق مسافر اب اپنے کرایے کی ادائیگی T-Cash کارڈ، آفیشل موبائل ایپ اور سپورٹڈ بینک کارڈز (ڈیبٹ/اے ٹی ایم) کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ ان تینوں سروسز میں اب پرانے ٹرانزٹ کارڈز قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔

پرانے کارڈز میں موجود بقایا رقم کا کیا ہوگا؟
اتھارٹی نے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے پرانے ٹریول کارڈز مخصوص ٹرانزٹ اسٹیشنز پر واپس جمع کروا دیں۔پرانے کارڈ کا 130 روپے کا سیکیورٹی ڈیپازٹ مسافروں کو واپس کر دیا جائے گا۔تاہم کارڈ میں پہلے سے موجود غیر استعمال شدہ کرائے کا بیلنس ری فنڈ نہیں کیا جائے گا۔

نیا T-Cash ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق پرانے کارڈ سسٹم کی جگہ اب T-Cash کارڈ کو بنیادی متبادل کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

نیا ڈیجیٹل نظام: T-Cash کارڈ

حکام کے مطابق نیا T-Cash کارڈ 130 روپے میں دستیاب ہوگا اور اسے مکمل طور پر کیش لیس سفر کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ مسافر ٹوکن خریدنے کی بجائے موبائل ایپ یا بینک کارڈز کے ذریعے بھی آسانی سے کرایہ ادا کر سکتے ہیں، جس سے وقت کی بچت اور قطاروں میں کمی متوقع ہے۔

مسافروں کی پریشانی اور شکایات
اس اچانک تبدیلی سے کچھ مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ:

پرانے سسٹم بند کرنے سے پہلے عوام کو اگاہی کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔

کچھ اسٹیشنز پر عملہ اب بھی شہریوں کو پرانے کارڈز ری چارج کرنے کا کہہ رہا تھا حالانکہ وہ بند کیے جا چکے ہیں۔

کارڈ میں موجود بقایا بیلنس ری فنڈ نہ کرنے کے فیصلے پر بھی شہریوں نے شدید اعتراض کیا ہے۔

اگرچہ اس اقدام کا مقصد لاہور کے کرایہ وصولی کے نظام کو جدید بنانا اور اسٹیشنوں پر لمبی لائنوں کو ختم کرنا ہے، لیکن مسافروں کی سہولت کے لیے تمام اسٹیشنز پر اس کی یکساں اور درست عملداری ضروری ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے