لاہور: چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے محکمانہ فرائض میں غفلت، لاپرواہی، حقائق مخفی رکھنے اور بدعنوانی پر ملوث ٹریفک اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں سنا دیں۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق بدعنوانی کی شکایت ثابت ہونے پر ایک ٹریفک وارڈن کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ فرائض میں عدم دلچسپی اور غفلت برتنے پر ایک ٹریفک انسپکٹر کو ایک سال کے لیے ٹریفک وارڈن کے عہدے پر تنزلی دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : ٹریفک پولیس اہلکار اب "سفید پوش ” نہیں رہیں گے، وردی کا انداز سال سے پہلے ہی تبدیل کرنے کا فیصلہ
اسی طرح محکمانہ پروموشن کے دوران حقائق مخفی رکھنے پر 6 ٹریفک انسپکٹرز کو دو سال کے لیے ٹریفک وارڈن کے عہدے پر تنزلی کی سزا سنائی گئی۔
تکامل ٹیسٹنگ سینٹر میں غفلت برتنے پر 3 ٹریفک وارڈنز کی دو سال کے لیے سالانہ انکریمنٹ روک دی گئی، جبکہ ایک شہری سے بلاوجہ الجھنے والے سینئر ٹریفک اسسٹنٹ کو ٹریفک اسسٹنٹ کے عہدے پر تنزلی دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور ٹریفک پولیس نے68 ڈرائیورز کے لائسنس اچانک کیوں معطل کر دیے؟
مزید برآں، محکمانہ فرائض میں غفلت اور غیرحاضری پر دو ٹریفک اسسٹنٹس کی دو سال کے لیے سالانہ انکریمنٹ روک دی گئی، جبکہ ایک سینئر ٹریفک وارڈن کی ایک سال کی سروس ضبط کر لی گئی۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے ہدایت کی کہ محکمہ ٹریفک پولیس میں احتسابی عمل کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدم دلچسپی، فرائض میں غفلت، لاپرواہی اور بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔












