پوری دنیا میں پاکستان سب سے زیادہ ایران امریکہ جنگ سے متاثر، جماعت اسلامی خواتین ونگ کی دبنگ پریس کانفرنس

لاہور(پنجاب پوسٹ)منصورہ جماعت اسلامی پاکستان شعبہ خواتین کی صدر حمیرا طارق نے منصورہ میں دیگر خواتین پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے اور جنوبی ایشیا میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اگر درست معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں تو پاکستان عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، مگر موجودہ معاشی حالات نے عوام بالخصوص خواتین کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا بوجھ صرف مرد نہیں بلکہ خواتین بھی برابر بلکہ زیادہ برداشت کر رہی ہیں کیونکہ گھریلو بجٹ سنبھالنے کی بنیادی ذمہ داری خواتین پر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث ذہنی امراض، گھریلو تنازعات، طلاق اور خلع کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔


حمیرا طارق نے تعلیمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف نجی تعلیمی اداروں ہی نہیں بلکہ سرکاری کالجوں میں بھی طالبات کے لیے نشستیں ناکافی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندان اپنی بچیوں کو تعلیم دلوانے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً 48 فیصد خواتین بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں، جو ریاستی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی سے دنیا جتنی متاثر نہیں ہوئی، پاکستان اس کے معاشی اثرات سے کہیں زیادہ متاثر ہوا۔ ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ڈراموں میں مصنوعی اور پرتعیش طرزِ زندگی دکھا کر معاشرے میں احساسِ محرومی کو بڑھایا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی شعبہ خواتین کی صدر کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، گرمیوں میں بھی گیس کی فراہمی متاثر ہے، جبکہ مارکیٹیں، اسپتال، اسکول اور دیگر بنیادی سہولیات بھی امیر اور غریب طبقات میں تقسیم ہوتی جا رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب معاشرے میں طبقاتی تقسیم بڑھتی ہے تو نوجوانوں میں بے چینی جنم لیتی ہے، جس کی مثالیں بنگلہ دیش اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے حکومت اور اربابِ اختیار پر زور دیا کہ عوامی مسائل، مہنگائی، تعلیم، صحت اور بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک کسی بڑے سماجی بحران سے محفوظ رہ سکے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے