لاہور پولیس غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کر رہی ہے، سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کا دائرہ کیوں بڑھایا گیا؟

لاہور(پنجاب پوسٹ)ڈی آئی جی آپریشنز کی زیر صدارت ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی انسدادِ جرائم میٹنگ میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کرایہ داری ریکارڈ کی جامع جانچ، امن و امان کی صورتحال اور جرائم کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ متعلقہ افسران کو بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اجلاس میں ایس پی سکیورٹی، ایس پی ماڈل ٹاؤن، سرکل افسران اور تمام متعلقہ ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ہدایت کی کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز میں مزید تیزی لائی جائے اور کرایہ داری ریکارڈ کی مکمل چھان بین کر کے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے سود خوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شہریوں کو فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے۔اجلاس میں سنیچر گینگز، ڈکیتوں، عادی جرائم پیشہ عناصر اور سٹریٹ کرائم میں ملوث گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

چوری، ڈکیتی اور راہزنی میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنانے جبکہ عدالتی مفروران اور اشتہاری مجرمان کی گرفتاری کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔کارکردگی کے جائزے کے دوران ایس ایچ او کوٹ لکھپت کو وارننگ جاری کی گئی، جبکہ کاہنہ اور نشتر کالونی کے ایس ایچ اوز کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی گئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے زیر التوا درخواستوں کے مدعیان سے براہ راست رابطہ کر کے بروقت فیڈ بیک لینے اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ عوام کو بہتر پبلک سروس ڈلیوری فراہم کر کے پولیس پر شہریوں کا اعتماد مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر سپروژن، بروقت رسپانس اور مضبوط ٹیم ورک کے ذریعے جرائم پر مزید قابو پایا جا سکتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے