گوجرانوالہ ( پنجاب پوسٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی لاہور سے روانگی ایک بار پر تنازعے کا شکار ہوگئی ،جہاں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم سہیل آفریدی کی سیکورٹی ٹیم نے جس شخص کو قاتل قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا ،وہ پولیس اہلکار نکلا
واقعہ کیا ہوا ؟
بدھ کو علی الصبح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مجھے قتل کرنے کیلئے ایک شخص آیا۔جس سے پستول برآمد ہوئی ۔
واقعہ کیا ہوا ؟
گوجرانوالہ پولیس کے مطابق پولیس کانسٹیبل مقدس علی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی سیکورٹی پر مامور تھا جسے وزیراعلی کی پروٹیکشن ٹیم کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔کانسٹیبل مقدس علی نے موقع پر اپنی شناخت کروانے کے ساتھ محکمانہ شناختی کارڈ بھی دکھایا اور واضح کیا کہ وہ وزیراعلی خیبرپختونخواہ کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہے،
اس کے باوجود اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیااہم امر یہ ہے کہ کانسٹیبل مقدس علی کو ایس ایچ او سٹی وزیرآباد کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایچ او سٹی وزیرآباد نے بڑی مشکل سے مداخلت کرتے ہوئے کانسٹیبل کی جان چھڑائی۔ موقع کی تصویر میں بھی ایس ایچ او کی موجودگی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
واقعہ کے بعد وزیراعلی خیبرپختونخواہ کی جانب سے کانسٹیبل مقدس علی کو قاتل قرار دیتے ہوئے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے حالانکہ موقع پر اس کی شناخت واضح ہوچکی تھی اور اس نے محکمانہ کارڈ بھی پیش کیا تھا۔
گوجرانوالہ پولیس واضح کرتی ہے کہ اپنے اہلکار کے خلاف بے بنیاد اور حقائق کے منافی تاثر کو کسی صورت درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقائق کو مسخ کر کے ایک ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کو قاتل قرار دینا قابل مذمت ہے۔












