لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لیگل انسپکٹر پنجاب پولیس کی بھرتی میں بے ضابطگی کے خلاف درخواست پر سماعت

لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لیگل انسپکٹر پنجاب پولیس کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے سیکرٹری پبلک سروس کمیشن کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

عدالت نے سیکرٹری پبلک سروس کمیشن سے سات روز کے اندر رپورٹ طلب کر لی۔ جسٹس ملک اویس خالد نے محمد جہانزیب کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے لیگل انسپکٹر کی بھرتی کے لیے درخواست دی اور پہلے تحریری امتحان میں اچھے نمبرز حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔

درخواست گزار کا مزید موقف تھا کہ دوسرے پیپر میں خلاف ضابطہ نتائج جاری نہیں کیے گئے جبکہ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے من پسند امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ درخواست گزار نے اس مبینہ بے ضابطگی کے حوالے سے سیکرٹری پبلک سروس کمیشن کو تحریری درخواست بھی دی تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ خلاف ضابطہ جاری کیے گئے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزار کے نتائج جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی کے لیے متعلقہ احکامات جاری کیے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے