آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ قوم کو کسی صورت قبول نہیں،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

لاہور( پنجاب پوسٹ )مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے آمدہ وفاقی بجٹ کے حوالہ سے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ قوم کو کسی صورت قبول نہیں، ٹیکس بڑھانے کے علاوہ بھی حکمران بجٹ میں کچھ کر لیا کریں،بجٹ ہمیشہ عوام دوست ہونا چاہئے لیکن حکمران اشرافیہ دوست بجٹ بنا کر غریبوں کو خودکشیوں پر مجبور کر دیتے ہیں،مرکزی مسلم لیگ آئی ایم ایف کے بجٹ کو مسترد کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں عید الاضحیٰ، مرکزی مسلم لیگ کے قیدیوں اور پردیسیوں کیلئے انوکھے عید دسترخوان میں کیا تھا؟

ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ حکومت ایک بار پھر آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر مبنی بجٹ لانے کی تیاری کر رہی ہے، یہ بجٹ پاکستان کے عوام، کسانوں، مزدوروں، تاجروں اور متوسط طبقے کے لیے نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے،تاجروں پر ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس، کھاد اور زرعی ادویات پر مزید ٹیکس، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی اور کوکنگ آئل سمیت روزمرہ استعمال کی اشیاء پر اضافی بوجھ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا،حکومت پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے ہاتھوں پریشان عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ اب نئے ٹیکسوں کی بھرمار سے زندگی مزید اجیرن بنائی جا رہی ہے،ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،بجلی مہنگی،گیس مہنگی،حکمران عوام کو ریلیف کب دیں گے،

یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق،عشرہ تشکر،مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام پنجاب بھر میں ریلیز اور تقاریب کا اہتمام

ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن آبپاشی کے پانی کے نرخ بڑھانے، کھاد پر اضافی ایکسائز ڈیوٹی اور زرعی شعبے پر نئے مالی بوجھ کے ذریعے زراعت کو تباہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے،ایسے فیصلے خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے اور زرعی پیداوار میں کمی کا باعث بنیں گے، اگر حکومت کی معاشی پالیسیاں کامیاب ہیں تو پھر شرح نمو مقررہ ہدف سے کم کیوں رہی، لاکھوں نوجوان بے روزگار کیوں ہیں، صنعتوں کی بحالی اور کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی اضافہ کیوں نظر نہیں آ رہا، صرف اعداد و شمار کی خوبصورت پیشکش سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے،ضرورت اس امر کی ہے آنے والا بجٹ مکمل طور پر عوام دوست، کاروبار دوست اور کسان دوست ہو۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے حکومتی اخراجات میں کمی، کرپشن کے خاتمے، اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے اور قومی وسائل کے منصفانہ استعمال پر توجہ دی جائے،پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ کیا جائے،بجٹ میں مہنگائی کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، زراعت اور صنعت کی ترقی، توانائی کے نرخوں میں کمی اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینے کے واضح اقدامات شامل ہوں، قوم مزید معاشی تجربات اور بیرونی دباؤ پر بننے والی پالیسیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے