مون سون اپ ڈیٹ : کن علاقوں میں کتنی بارش ہوئی؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب بھر میں اس وقت موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان بارشوں سے کہیں موسم بہت خشگوار ہے اور کہیں بارش کے پانی کی وجہ لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ۔ مختلف اضلاع میں مون سون بارشوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے۔

قصور کے نواحی علاقے کھڈیاں خاص کے گاؤں ڈھنگ شاہ میں موسلا دھار بارش کے باعث بانسوں سے تعمیر شدہ چار مرلہ کا خستہ حال مکان منہدم ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو ملبے سے نکالا، تاہم ایک بزرگ اور ایک کمسن بچہ جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک خاتون اور دو بچے زخمی ہو گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا۔

دوسری جانب سانگلہ ہل اور گردونواح میں بھی موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کئی مقامات پر نکاسیٔ آب کا نظام مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جمع شدہ پانی کی فوری نکاسی اور بجلی کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ننکانہ صاحب اور گردونواح میں صبح سویرے بادل چھا گئے جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا اور شہر کے مختلف علاقے جل تھل ایک ہو گئے۔

شدید بارش کے باعث متعدد بجلی کے فیڈرز ٹرپ کر گئے، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری جانب نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

شیخوپورہ میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا اور شدید گرمی و حبس کا زور ٹوٹ گیا، تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے لگا جبکہ متعدد لیسکو فیڈرز ٹرپ ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔

سرگودھا میں شہر اور گردونواح میں مسلسل بارش کے باعث اب تک 160 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ واسا کا ہنگامی نکاسیٔ آب آپریشن جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ فعال ہیں جبکہ ایم ڈی واسا ابوبکر عمران خود فیلڈ میں موجود رہ کر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ واسا اور ستھرا پنجاب کا عملہ شہر سے پانی کے فوری اخراج کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔[

ادھر بہاولنگر کی بستی فتح محمد میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 20 سالہ فوزیہ بی بی، دو ماہ کے فیضان علی اور دو سالہ اذان علی زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ٹیم نے متاثرین کو ملبے سے نکال کر طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا۔؎

دوسری جانب لاہور کے علاقے ہیئر کے پالکے گاؤں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں چار سالہ بچہ مرسلین گھر کے قریب بارش کے پانی سے بھرے پلاٹ میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گیا۔ مسلسل بارشوں کے باعث انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور بچوں کو بارش کے پانی اور کھلے مقامات سے دور رکھنے کی اپیل کی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے