حاصل پور، سرکاری فلٹریشن پلانٹ کا پانی زہرآلود؟6 بچے فوڈ پوائزننگ کا شکار،3 جان سے گئے،دو کی حالت تشویشناک

حاصل پور (سیدہ نورین فاطمہ ) حاصل پور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک ہی گلی میں واقع دو گھرانوں کے سات بچے اچانک بیمار ہو گئے، جن میں سے تین بچے جاں بحق جبکہ دیگر کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

مقامی افراد نے پنجاب پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ حاصل پور کی بستی غریب میں راجہ چوک کی گلی نمبر تین میں پیش آیا۔جہاں ایک گھر کے بچے ہوٹل سے دال لیکر آئے اور راستے سے انہوں نے سرکاری فلٹر پلانٹ سے پانی بھرا، جبکہ دوسرے گھر میں چاول بنے ہوئے تھے، اس گھر نے بھی سرکاری فلٹریشن پلانٹ کا پانی پیا۔ دونوں گھروں میں سرکاری فلٹریشن پلانٹ کا پانی مشترکہ تھا۔

مقامی افراد کے مطابق 23 جولائی کی شب ایک گھر کی بچی کی طبعیت خراب ہوئی،جسے ڈرپ وغیرہ لگائے تاہم اسکا برین ڈیڈ ہوگیا،جسے ہسپتال لے جایا گیا،جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ اسی دوران دوسرے گھر کے بچوں کی بھی طبعیت خراب ہوگئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 16 سالہ مناہل، 20 سالہ عبدالمعز اور 13 سالہ ابیہ شامل ہیں۔ متاثرہ بچوں کو فوری طور پر ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد لائیبہ، ہامنہ اور شعیب گل کو تشویشناک حالت میں بہاولپور ریفر کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :فیصل آباد میں جعلی کالی مرچ تیار کرنے والے مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، یونٹ سیل، 2 ملزمان گرفتار

اہل خانہ کے مطابق بچوں نے گھر میں تیار کیا گیا دال چاول کھایا تھا جبکہ پینے کے لیے قریبی واٹر فلٹریشن پلانٹ کا پانی استعمال کیا گیا۔ واقعے کے بعد فوڈ پوائزننگ کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال کسی بھی وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

اسسٹنٹ کمشنر کے احکامات پر چیف آفیسر بلدیہ چوہدری محمد ندیم اور انجینئر شاہد نواز سیفی نے متاثرہ گھروں کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ انتظامیہ نے پانی اور خوراک کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اصل حقائق لیبارٹری رپورٹس کے بعد سامنے آئیں گے، اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے گریز کریں۔

واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور شفاف تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے