پی ٹی آئی کا 27 ستمبر احتجاج ، ریاست اور تحریک انصاف کے درمیان دوری پیدا کرنے کیلئے فتنہ الخوارج مارچ کو نشانہ بنا سکتا ہے ، رانا ثنا اللہ کا دعویٰ

لاہور( پنجاب پوسٹ ) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف مسلح ہو کر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ان کے مطابق فتنہ الخوارج کی جانب سے تحریک انصاف کے احتجاج کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج احتجاج کو نشانہ بنا کر حکومت اور عوام کے درمیان مزید دوری پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ تحریک انصاف کا احتجاج ناکام ہو جائے گا۔

لاہور میں رانا ثنا اللہ نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران صوبوں کی تقسیم، تحریک انصاف کے احتجاج، پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے معاملات سمیت مختلف سیاسی امور پر گفتگو کی۔

صوبوں کی ممکنہ تقسیم سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر نئے صوبوں کے مبینہ منصوبہ سازوں نے مسلم لیگ ن سے بات نہیں کی تو یہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے صوبوں کی تقسیم کا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا، اس سے پارٹی کی پالیسی سمجھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو جان بوجھ کر ہوا دی گئی ، معاملہ پارلیمنٹ میں ڈسکس کیا جائے گا ، رانا ثنا اللہ

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو تمام سیاسی جماعتیں اور ارکان اپنی رائے دیں گے۔ اس معاملے پر پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی بھی بن سکتی ہے، جبکہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے میں چھ سے آٹھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ صوبوں کی تقسیم کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس بنیں گے یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کے حق میں نہیں، جبکہ بہاولپور کے الگ صوبے یا لاہور کے ساتھ رہنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے حق میں مسلم لیگ ن کی جانب سے کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں : نئے صوبوں کا معاملہ، سب سے پہلے اسلام آباد کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کا فیصلہ

اقتصادی فورم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ ایسا فورم نہیں جہاں صوبوں کی تقسیم جیسے منصوبے شروع کیے جائیں۔ ان کے مطابق صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ ہوا اور کارکن جذباتی ہو کر پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

کینال منصوبے کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے منصوبے کی حمایت کی، تاہم احتجاج کے ذریعے اسے بند کروا دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی سے مبینہ پس پردہ مذاکرات سے متعلق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ممکن ہے پس پردہ گفتگو ہو رہی ہو، تاہم ان کے بقول بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ بات چیت اپنانے کی ایک قیمت ہے اور جو بھی یہ راستہ اختیار کرے گا اسے قیمت چکانا ہوگی۔

مزید پڑھیں : نئے صوبے یا انتظامی یونٹ، پنجاب کی جیلوں میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ، گجرانوالہ میں نیا ریجن بنایا جائے گا

وفاقی وزیر داخلہ کے حوالے سے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر وہ کابینہ یا سینیٹ میں کوئی بات کریں گے تو ان سے جواب لے لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر شیخ قیصر کے اعتراضات سے متعلق رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وہ ان کے سامنے ہر دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر کے اعتراضات یا وزیراعظم سے ملاقات نہ ہونے کی بات ان کی سمجھ سے باہر ہے۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ کچھ معاملات غور و خوض کے لیے ہوتے ہیں اور ہر چیز کو منظر عام پر نہیں لانا چاہیے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے