پنجاب میں ایگری میکانائزیشن منصوبہ کیا ہے؟ گجرات میں ایگری مال کا قیام کیسے گیم چینجر ثابت ہوگا؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) پنجاب میں جدید زراعت کے فروغ اور زرعی آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے پی اینڈ ڈی ٹاور میں محکمہ زراعت کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں ہارویسٹر، سپرسیڈر، ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کے فروغ، ایگری میکانائزیشن، سیڈ ڈیولپمنٹ اور زراعت سے وابستہ صنعتوں کے فروغ سے متعلق مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مقامی صنعتکاروں اور چین کے سرمایہ کاروں کے درمیان جوائنٹ وینچر کے امکانات پر بھی غور کیا گیا تاکہ جدید زرعی مشینری کی تیاری ملک کے اندر ممکن بنائی جا سکے۔

اجلاس کے دوران جدید زراعت کے فروغ کے لیے محکمہ صنعت و تجارت اور محکمہ زراعت کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے گجرات میں ایگری مال کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبے میں جدید زراعت کے فروغ کے لیے نتیجہ خیز اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور صوبے کی بڑی آبادی کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے، تاہم ماضی میں اس اہم شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایگری میکانائزیشن کے فروغ کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور جدید زراعت کے فروغ کے لیے چین کے ہواوے گروپ کے ساتھ اشتراک بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید زرعی آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے چین سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی جائے گی تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے اور کسانوں کو معیاری مشینری مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکے۔

چوہدری شافع حسین نے مزید کہا کہ سیڈ ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ محکمہ اوقاف کی زمینوں پر سویابین کی کاشت کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی "آسان کاروبار فنانس اسکیم” سے فائدہ اٹھا کر ایگرو بیسڈ انڈسٹری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جدید زراعت کے فروغ کے لیے تاریخ ساز اقدامات کیے ہیں اور گزشتہ اڑھائی برسوں میں اس شعبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو زرعی لوازمات کی خریداری میں سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ حکومت کسانوں کی سہولت کے لیے آسان قرضوں کی مزید اسکیمیں بھی متعارف کرا رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ہارویسٹر، سپرسیڈر، ٹریکٹر اور دیگر جدید زرعی آلات مقامی سطح پر تیار ہوں تاکہ درآمدی انحصار کم ہو اور ملکی صنعت کو فروغ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت پر مبنی صنعتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری زراعت، اسپیشل سیکرٹری زراعت، اسپیشل سیکرٹری انڈسٹریز سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی، مقامی مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبے کی ترقی سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے