لاہور(پنجاب پوسٹ) روزنامہ جنگ لاہور کے نیوز ایڈیٹر جناب اقبال ندیم کا جواں سالہ بیٹا پیشی پر جاتے ہوئے نامعلوم ملزموں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ قتل کیس میں مرکزی ملزم سمیت 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق فائرنگ کروانے والا عبید علی اور شوٹر نیاز قانون کی گرفت میں آ گئے ہیں ۔واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ ہے، ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری، جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھا رہے ہیں ، واقعے کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے معروف قانون دان طاہر چوہدری نے اپنی فیسبک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس دشمنی کی بنیاد ایک چپس کا پیکٹ بنا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ قریب ایک سال پہلے ایک اکیڈمی میں ساتھ پڑھے والے بچوں کی لڑائی ہوئی تھی۔ جس میں ایک طالبعلم قتل ہوا تھا۔ یہ بچے نویں جماعت کے طالبعلم تھے۔
قانون دان کے مطابق یہ لڑائی چپس کے ایک پیکٹ سے شروع ہوئی تھی۔ مقتول طالبعلم نے مذاق میں چپس کا یہ پیکٹ چھینا جس کا دوسرے طالبعلم کو برا لگا۔ یہ طالبعلم مبینہ طور پر اکیڈمی کے بعد اپنے کچھ دوستوں کو ساتھ لے کر مقتول طالبعلم کے محلے میں چلا گیا۔ وہاں چپس پیکٹ چھیننے والے طالبعلم کو صلح کے بہانے باہر بلایا گیا اور مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی مار پیٹ میں اس کی جان چلی گئی۔ اسے جیومیٹری باکس میں موجود پرکار لگی۔ اس کی موت واقع ہو گئی۔مبینہ قاتل بچوں کو بعد میں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔
سینیئر صحافی کا بیٹا اپنے والد کے ساتھ عدالت میں پیشی پر جانے کیلئے گھر سے نکلا ہی تھا کہ مبینہ شوٹرز نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔
قانون دان طاہر چوہدری نے اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کی اچھی تربیت کریں۔ انہیں لڑنا نہ سکھائیں۔ انہیں درگزر کرنا سکھائیں ،اپنی غلطیوں کو درست کرنے پر کام کریں اور اپنے جذبات پر کنٹرول رکھیں۔













