لاہور (پنجاب پوسٹ) ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیشن جج کے پاس اندراجِ مقدمہ سے متعلق دفعہ 22-A کی درخواستیں ایک جسٹس آف دی پیس سے دوسرے جسٹس آف دی پیس کو منتقل کرنے کا اختیار نہیں، جبکہ قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار برقرار رکھا گیا ہے۔
جسٹس فاروق حیدر نے فیصل منظور کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سیشن جج اوکاڑہ کا 22-A کی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق حکم جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسی درخواستوں کی منتقلی کا اختیار آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ استعمال کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ میں 10 نئے ججز کی تقرری، 27 جولائی کو حلف برداری
فیصلے میں کہا گیا کہ مدعا علیہ نے درخواست گزار کے مقامی بار کا رکن ہونے، مبینہ ہراسانی اور تحصیل ہیڈکوارٹر دیپالپور میں جان لیوا حملے کے خدشے کی بنیاد پر درخواستوں کی منتقلی کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ فریقین کے درمیان ہراسانی، دھمکیوں اور حملے کے الزامات پر ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے، اس لیے ان غیر معمولی حالات میں ضمانت کی درخواست کی منتقلی کا حکم درست تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی آبزرویشن دی کہ "انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیے۔”












