اسلام آباد ( پنجاب پوسٹ ) پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے بھارت کے آبی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں شیری رحمٰن نے کہا کہ ایک جانب بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے جبکہ دوسری جانب سیلابی پانی پاکستان کی جانب چھوڑ کر لاکھوں شہریوں کو خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول کر پاکستان میں سیلابی خطرات میں اضافہ کیا، حالانکہ دریاؤں کے پانی کو تنازع کا نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ چلائے جانے والے مشترکہ وسائل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی خطے کے امن، اعتماد اور آبی تعاون کے لیے خطرناک ہے، جبکہ پانی کے بہاؤ سے متعلق بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے دریائے چناب میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے پاکستان کے آبپاشی نظام اور زرعی شعبے کو شدید خطرات لاحق ہیں، کیونکہ دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی نہری نظام کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے اور فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے وابستہ ہے، جبکہ بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا کسی دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے سے گریز کرے، کیونکہ آبی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال ہی خطے کے مفاد میں ہے۔













