لاہور (نور فاطمہ) سوشل میڈیا پر 17 جولائی کو ایک ایف آئی آر اور چند ویڈیوز سامنے آئی جن میں الزام عائد کیا کہ ایک دس سالہ بچے پر جامعہ اسلامیہ لاثانیہ کے اساتذہ نے دس سالہ بچے پر تشدد کیا جسے والدین کو بتائے بغیر ہسپتال منتقل کیا گیا
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا؟
بچے کے والد وقاص عظیم نے تھانہ احمد آباد ضلع نارووال میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں الزام عائد کیا کہ پسرور کے قصبے علی پور ہنجلی ضلع سیالکوٹ کا رہائشی ہے۔ اس کے دس سالہ بیٹے کو مدرسہ لاثانی علی پور سیداں میں قاری احتشام الحق، قاری احمد رضا اور قاری ناصر نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے ڈی ایچ کیو نارووال ہسپتال میں داخل کروا دیا، ہمیں مدرسے سے کوئی اطلاع نہیں ملی بلکہ ہسپتال والوں سے ملی کہ آپ کا بچہ داخل ہے اور اس کا آپریشن ہو چکا ہے۔
متاثرہ فیملی نے پنجاب پوسٹ کو کیا بتایا؟
پنجاب پوسٹ نے لڑکے کے والد وقاص عظیم کے ایف آئی آر میں درج نمبر 77***0321134 پر رابطہ کیا تین روز مسلسل کوشش کے باوجود نمبر بند ملا۔ یہ نمبر واٹس ایپ پر بھی موجود نہیں
جامعہ اسلامیہ لاثانیہ علی پور سیداں کا کیا مؤقف ہے؟
پنجاب پوسٹ کے رابطہ کرنے پر جامعہ لاثانیہ علی پور سیداں کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس نام کا کوئی مدرس یا ملازم ہمارے جامعہ میں موجود نہیں اور سوشل میڈیا پر پیر سید کرامت علی حسین شاہ کیخلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ جامعہ منفی پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
پولیس نے اب تک کیا کارروائی کی؟
انویسٹیگیشن آفیسر بارک اللہ نے پنجاب پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولوی احتشام الحق کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے بعد جوڈٰیشل بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر دو ملزمان تاحال شامل تفتیش نہیں ہوئے اور انہون نے عبوری ضمانت کروا لی ہے۔ یہ واقعہ مدرسہ لاثانی علی پور سیداں جس کی سربراہی پیر غلام رسول کرتے ہیں جو کہ ایک سال قبل شروع ہوا اور وہاں 10 سے 12 بچے زیر تعلیم ہیں۔ اس واقعہ کا جامعہ اسلامیہ لاثانیہ علی پور سیداں سے کوئی تعلق نہیں۔
واقعہ کی اصل حقیقت کیا ہے؟
پنجاب پوسٹ کو تمام فریقین کی جانب سے ملنے والی معلومات کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ واقعہ جامعہ اسلامیہ لاثانیہ میں نہیں بلکہ مدرسہ لاثانی میں پیش آیا ۔ جامعہ اسلامیہ کے مہتتم پیر سید کرامت علی حسین ہیں ، جبکہ مدرسہ لاثانی جوکہ ایک حویلی میں قائم ہے، اسکے سربراہ پیر غلام رسول ہیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز ، الزامات اور بیانات بالکل جھوٹ ہیں












