پنجاب یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے چند ماہ میں یونیورسٹی کی آمدن 7 ارب سے 12 ارب تک کیسے پہنچائی؟

لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی کارکردگی پر مبنی گرین پیپر جاری کرتے ہوئے مالی نظم و نسق، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کی قیادت میں جامعہ کی مجموعی آمدن 7 ارب 15 کروڑ روپے سے بڑھ کر 12 ارب 56 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پرائیویٹ ڈگری پروگرام کی بندش اور امیدواروں کی تعداد میں نمایاں کمی کے باوجود یہ تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق پرائیویٹ امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر 35 ہزار رہ گئی، تاہم پہلی مرتبہ یونیورسٹی کے بجٹ خسارے میں نمایاں کمی آئی اور خسارہ 2 ارب 86 کروڑ روپے سے کم ہو کر 1 ارب 67 کروڑ روپے رہ گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری، شفافیت اور مؤثر مالیاتی نظم و نسق کے باعث ذخائر کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آئی۔ 2024 میں ذخائر سے 4 ارب 19 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ رقم کم ہو کر 2 ارب 57 کروڑ روپے رہ گئی۔ موجودہ انتظامیہ نے 2 ارب 30 کروڑ روپے دوبارہ سرمایہ کاری بھی کی۔

ترجمان کے مطابق بجلی چوری کی روک تھام اور سولر منصوبوں کے ذریعے 50 لاکھ یونٹس بجلی کی بچت کی گئی، جس سے یونیورسٹی کو 28 کروڑ 60 لاکھ روپے کا مالی فائدہ ہوا۔

بیان میں کہا گیا کہ ون اکاؤنٹ پالیسی کے نفاذ سے اخراجات میں شفافیت یقینی بنائی گئی، جبکہ دہائیوں سے پرانے کرایوں پر چلنے والی کینٹینوں اور دکانوں کی پہلی مرتبہ نیلامی سے یونیورسٹی کی آمدن میں 16 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

ترجمان کے مطابق گڈ گورننس ماڈل کے تحت ون مین ون پوسٹ اور صدور شعبہ جات کی روٹیشن پالیسی پر عملدرآمد کیا گیا، جس سے اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور اساتذہ کو یکساں قیادت کے مواقع فراہم ہوئے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی ہاسٹلز سے غیر قانونی قبضے مکمل طور پر ختم کر دیے گئے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم قبضے بھی واگزار کرا لیے گئے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے