لاہور (پنجاب پوسٹ) چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن عبدالرؤف ابراہیم نے سندھ میں 20 لاکھ ٹن جبکہ ملک بھر میں 50 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
عبدالرؤف ابراہیم نے کہا کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ گندم کی قلت مستقبل میں سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کا فارمولا گزشتہ دو برس سے ناکام ثابت ہوا ہے، جس کے باعث کسان شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپورٹ پرائس نہ ملنے سے کاشتکار بدحال ہو گئے، جبکہ 3500 روپے فی من سپورٹ پرائس کا اعلان بھی مؤثر ثابت نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: گجرات اور چین کے شہر لاؤڈی سسٹر سٹی، چین گجرات میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟
چیئرمین کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے 87.50 روپے فی کلو کے حساب سے سرکاری گندم خریداری نہیں کی، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روٹی عوام کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے گندم کے بحران کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
عبدالرؤف ابراہیم نے ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے خصوصی فورس قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ ملنے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے، جبکہ طلب اور رسد میں عدم توازن کے باعث آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔











