لاہور(پنجاب پوسٹ)تعلیمی اداروں میں نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ویپنگ اور نیکوٹین پاوچز کے استعمال کے پیشِ نظر آگاہی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب کے زیر اہتمام مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے ایک روزہ آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین نے ویپنگ کے صحت، تعلیم اور معاشرتی زندگی پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس خطرناک رجحان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کنسلٹنٹ انسدادِ منشیات مہم سید ذوالفقار حسین نے کہا کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں ویپ کی طلب میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ویپ اور نیکوٹین پاوچز کی فروخت بڑھانے کے لیے مشہور شخصیات کے ذریعے نوجوانوں کو خصوصی طور پر ہدف بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویپنگ، نیکوٹین پاوچز اور سگریٹ کا کاروبار دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی صنعتوں میں شامل ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اس کے منفی اثرات کی زد میں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے طلبہ اکثر تعلیمی دباؤ اور ذہنی تناؤ کے باعث ویپنگ یا نیکوٹین پاوچز کا استعمال شروع کرتے ہیں، جو بعد ازاں عادت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
سید ذوالفقار حسین نے مزید کہا کہ اسکولوں، کالجوں اور نجی اکیڈمیوں کے طلبہ تک ویپنگ مصنوعات کی رسائی اور فروخت نسبتاً آسان ہو چکی ہے، جس کے باعث کم عمر طلبہ بھی اس لت کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس رجحان کو روکنے کے لیے والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سفارش کی کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت اور رہنمائی کے لیے تمام جامعات میں باقاعدہ کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور نشہ آور اشیا سے دور رکھنے میں مدد مل سکے۔












