لاہور(پنجاب پوسٹ) کی فیملی کورٹ میں معروف سوشل ایکٹوسٹ اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نبیحہ علی کی جانب سے دائر خلع کی درخواست پر ابتدائی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے شوہر کو نوٹس جاری کر دیا اور جواب طلب کر لیا۔ کیس نے سماجی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ درخواست میں ازدواجی زندگی سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
فیملی جج انشاء یوسف نے کیس کی سماعت کی۔ ڈاکٹر نبیحہ علی نے اپنے وکیل چوہدری مدثر ایڈووکیٹ کی وساطت سے خلع کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر حارث کھوکھر انہیں مسلسل جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور گالم گلوچ کرتے ہیں، جس کے باعث ان کے لیے ازدواجی زندگی جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں:لاہور ہائیکورٹ میں 244 کنال چراگاہ کی زمین واپسی کا معاملہ، ڈی سی خوشاب سے رپورٹ طلب
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوہر اچھے کردار کے مالک نہیں ہیں اور درخواست گزار کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ درخواست کے مطابق ڈاکٹر نبیحہ علی کو "جانوروں کی طرح ٹریٹ” کیا جاتا رہا، جس سے ان کی عزتِ نفس اور ذہنی سکون شدید متاثر ہوا۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب مزید شوہر کے ساتھ بیوی کے رشتے میں نہیں رہنا چاہتیں اور عدالت سے استدعا کی کہ انہیں خلع کی ڈگری جاری کرتے ہوئے قانونی ریلیف فراہم کیا جائے۔
عدالت نے ابتدائی کارروائی کے بعد شوہر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی، جہاں فریقین کے مؤقف اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔








