لاہور(پنجاب پوسٹ) ہائیکورٹ میں "اپنا کھیت اپنا روزگار” سکیم کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عارضی کاشت سکیم کے تحت الاٹ کی گئی زمین واپس لینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ڈپٹی کمشنر پاکپتن کو درخواست قانون کے مطابق نمٹانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد انعام کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے مطابق ڈپٹی کمشنر پاکپتن نے عارضی کاشت سکیم کے تحت انہیں 40 کنال اراضی پانچ سال کے لیے الاٹ کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سالانہ 15 لاکھ روپے ٹھیکے میں سے 3 لاکھ 87 ہزار روپے بھی جمع کرا دیے گئے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اب اسی اراضی کو "اپنا کھیت اپنا روزگار” سکیم کے لیے واپس لیا جا رہا ہے، جو قانون کے منافی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ چراگاہ کی الاٹ شدہ اراضی قانون کے مطابق واپس نہیں لی جا سکتی، اس لیے اراضی واپسی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے فوری حکم امتناع جاری کرنے کے بجائے درخواست ڈپٹی کمشنر پاکپتن کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ کے اندر درخواست گزار کا مؤقف سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔








