لاہور(پنجاب پوسٹ)پنجاب پولیس میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ سے متعلق بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عبدالکریم نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس افسران کو الاٹ کیے گئے سرکاری گھروں کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد دو یا اس سے زائد سرکاری گھروں پر قبضہ رکھنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے رہائش گاہوں کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تمام اضلاع کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ایسے افسران کی مکمل فہرست فوری طور پر بھجوائی جائے جن کے پاس ایک ہی ضلع یا مختلف اضلاع میں ایک سے زائد سرکاری رہائش گاہیں الاٹ ہیں۔ موصول ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں قانون اور پالیسی کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد افسران نے گریڈ 17 میں ملنے والی سرکاری رہائش گاہیں بھی اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں جبکہ ترقی پانے کے بعد نئے عہدے یا گریڈ کے تحت ملنے والے سرکاری گھروں پر بھی قابض ہیں، جس کے باعث کئی مستحق افسران طویل عرصے سے سرکاری رہائش کے انتظار میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:غیر ملکی خاتون کی جائیداد پر قبضے کی کوشش لاہور سیشن کورٹ نے کیسے ناممکن بنا دی؟
پولیس ذرائع کے مطابق جن افسران کے پاس دو یا دو سے زیادہ سرکاری گھر موجود ہیں، ان سے اضافی رہائش گاہیں فوری طور پر خالی کروائی جائیں گی۔ بعد ازاں یہ مکانات انتظار کی فہرست میں شامل اہل افسران کو قواعد و ضوابط کے مطابق الاٹ کیے جائیں گے تاکہ سرکاری وسائل کا شفاف اور منصفانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پنجاب بھر کے تمام اضلاع سے رپورٹس رواں ہفتے کے دوران موصول ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد مکمل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کر کے عملی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
آئی جی پنجاب نے متعلقہ برانچ کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی افسر کو قانون سے ہٹ کر ایک سے زائد سرکاری گھر رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔








