لاہور(پنجاب پوسٹ)غیر ملکی مسلم خاتون کی مبینہ طور پر جعلسازی کے ذریعے قیمتی جائیداد ہتھیانے اور فروخت کرنے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لاہور کی سیشن کورٹ نے ملزمان کی عبوری ضمانتوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا، جبکہ کیس نے شہریوں کی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ایڈیشنل سیشن جج چوہدری انعام الٰہی نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت متاثرہ خاتون کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر چشتی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ مقدمے میں نامزد ملزمان عظمیٰ عارف اور بابر کی عبوری ضمانتوں پر فریقین نے اپنے اپنے دلائل دیے۔ عدالت نے دونوں جانب کے مؤقف سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:
متاثرہ خاتون کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر جعلسازی اور جعلی دستاویزات کے ذریعے خاتون کی جائیداد اپنے نام منتقل کروائی اور بعد ازاں پوری جائیداد فروخت بھی کر دی۔ وکیل کے مطابق یہ ایک منظم فراڈ ہے جس میں خاتون کی ملکیت کو غیر قانونی طریقے سے ہتھیایا گیا۔
متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی شادی سال 2001 میں جاوید نامی شخص سے ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ جب وہ پاکستان واپس آئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی جائیداد پہلے ہی فروخت کی جا چکی ہے، جس پر انہوں نے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
پولیس کے مطابق اس معاملے پر تھانہ گلشن راوی میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے اور تفتیش جاری ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانتوں سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ آئندہ سماعت پر سنایا جائے گا۔








