پنجاب حکومت کا "اپنی چھت، محفوظ چھت” پروگرام عوام میں مقبول، ہزاروں درخواستیں موصول، بلاسود قرضوں کی فراہمی جاری

لاہور ( پنجاب پوسٹ ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر شروع کیا گیا "اپنی چھت، محفوظ چھت” پروگرام چند ہی روز میں عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ پروگرام کے تحت گھر کی نئی منزل کی تعمیر، مرمت یا نئے کمرے کی تعمیر کے لیے 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ درخواستوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت محکمہ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں اور بلاسود قرضوں کی فراہمی سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ "اپنی چھت، محفوظ چھت” پروگرام کے لیے اب تک 37 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جبکہ آئندہ دنوں میں اس تعداد میں مزید نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ بلال یاسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے گھروں کی مرمت اور رہائشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلاسود قرضوں کی منظوری دے کر عام شہریوں، خصوصاً کم آمدن والے طبقے کے لیے بڑی سہولت فراہم کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 لاکھ روپے کے قرض پر درخواست گزار کو صرف 4 ہزار 700 روپے ماہانہ جبکہ 10 لاکھ روپے کے قرض پر تقریباً 9 ہزار 300 روپے ماہانہ قسط ادا کرنا ہوگی، تاکہ کم آمدن والے افراد بھی آسانی سے اپنے گھروں کی تعمیر یا مرمت کا خواب پورا کر سکیں۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا "اپنی چھت، اپنا گھر” پروگرام بھی بھرپور کامیابی سے جاری ہے، جس کے لیے درخواست گزاروں کی تعداد 13 لاکھ 36 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک ایک لاکھ 74 ہزار 842 افراد میں تقریباً 226 ارب روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

بلال یاسین کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت عوامی فلاح، رہائشی سہولیات اور سستے گھروں کے وعدوں کو عملی شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدن والے خاندانوں کو نئی منزل یا کمرے کی تعمیر کے لیے چند ہزار روپے ماہانہ قسط کی ادائیگی کسی اضافی بوجھ کا باعث نہیں بنے گی، جبکہ یہ منصوبے صوبے میں عوامی خدمت اور فلاحی اقدامات کی بہترین مثال بن رہے ہیں۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے