دنیاپور( پنجاب پوسٹ ) بستی بشیرآباد میں سیوریج لائن کی تنصیب کے لیے کھدائی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کمپلینٹ پورٹل پر درج شہری شکایت کو "Resolved” (حل) قرار دے دیا گیا، تاہم زمینی حقائق اس دعوے کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ موقع پر موجود تازہ صورتحال کے مطابق تعمیراتی کام شام کے وقت روک دیا گیا، جبکہ کھدائی کے نتیجے میں بننے والا گہرا گڑھا تاحال کھلا پڑا ہے اور اس کے گرد کسی قسم کے مؤثر حفاظتی انتظامات موجود نہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق کھلے گڑھے کے اطراف نہ حفاظتی بیریئر لگائے گئے ہیں، نہ وارننگ ٹیپ نصب کی گئی ہے اور نہ ہی رات کے وقت شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے کوئی ریفلیکٹر، سائن بورڈ یا روشنی کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ مقام گنجان آباد رہائشی علاقے میں واقع ہے جہاں روزانہ بچوں، خواتین، بزرگوں، موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد آمدورفت کرتی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت حادثہ رونما ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں سیلاب کا خطرہ؟کن کن دریاؤں کے سپل ویز کھولے گئے ہیں؟
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمپلینٹ پورٹل پر شکایت کو حل شدہ ظاہر کیا جا چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوا اور نہ ہی شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر خدانخواستہ اس کھلے گڑھے میں کوئی بچہ، بزرگ یا راہگیر گر کر زخمی ہو جاتا ہے یا کوئی بڑا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس ادارے یا متعلقہ افسر پر عائد ہوگی؟
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ عوامی شکایات کے ازالے کا مقصد صرف کاغذی کارروائی مکمل کرنا نہیں بلکہ مسائل کو مستقل، محفوظ اور مؤثر انداز میں حل کرنا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے دوران حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عوام کی جان و مال کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔
اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر لودھراں، اسسٹنٹ کمشنر دنیاپور اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، کمپلینٹ پورٹل پر درج شکایت کی دوبارہ جانچ کرائی جائے، کھلے گڑھے کے گرد فوری حفاظتی بیریئر، وارننگ سائنز اور روشنی کا مناسب انتظام کیا جائے، تعمیراتی کام کو جلد از جلد مکمل کر کے سڑک کو بحال کیا جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں کسی بھی عوامی شکایت کو صرف ریکارڈ میں "Resolved” ظاہر کرنے کے بجائے عملی طور پر مکمل، محفوظ اور تسلی بخش انداز میں حل کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔








