ویلنشیاسانحہ : ہلاک ہونے والی والدہ اور بچوں کی لاشیں کون وصول کریگا ؟ فیصلہ آ گیا


لاہور (پنجاب پوسٹ) کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن بچوں کی ہلاکت میں خاتون علینہ اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے بعد لاشوں کی حوالگی کا معاملہ عدالت تک پہنچ گیا، جبکہ مقتولہ کی بہنیں بھی امریکا اور کینیڈا سے لاہور پہنچ گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق بچوں کے والد ناصر اور مقتولہ علینہ کی بہنیں لاشیں وصول کرنے کی خواہش مند تھیں، جس کے بعد ناصر کی فیملی بچوں کی لاشیں لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے علینہ اور تینوں بچوں کی لاشیں والد ناصر کے سپرد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کے مطابق قانون کے تحت بچوں کا قانونی وارث والد ہے، اس لیے پولیس عدالتی احکامات کے مطابق لاشیں قانونی وارث کے حوالے کرے گی
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر صورتحال خراب ہوتی ہے یا تنازع پیدا ہوتا ہے تو پولیس قانون کے مطابق لاشوں کی امانتاً تدفین بھی کر سکتی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق تاحال علینہ اور ان کے تینوں بچوں کی لاشیں سرد خانے میں موجود ہیں، جبکہ مقتولہ کی بہنیں امریکا اور کینیڈا سے لاہور پہنچ چکی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے جاں بحق خاتون علینہ کے اہل خانہ کے ابتدائی بیانات ریکارڈ کر لیے تھے، جبکہ بیرون ملک مقیم اس کی دو بہنوں سے بھی رابطہ کرکے ان کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔


پولیس ذرائع کے مطابق امریکہ اور کینیڈا میں مقیم علینہ کی دونوں بہنوں کے بیانات ٹیلی فون کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے۔ ابتدائی بیانات میں دونوں بہنوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ علینہ ماضی میں ذہنی عارضے کا شکار رہی تھی اور اس کا علاج بھی جاری تھا۔

تحقیقات کے دوران ایک بہن نے پولیس کو بتایا کہ پاکستان روانگی سے قبل علینہ نے انہیں بتایا تھا کہ اس کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، جس کی وجہ سے اس نے اپنی ادویات کی مقدار بھی کم کر دی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے موصول ہونے والے ان بیانات کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا، تاہم دونوں بہنوں کی پاکستان آمد کے بعد ان کے باضابطہ اور تفصیلی بیانات دوبارہ ریکارڈ کیے جائیں گے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

پولیس کا کہناتھا کہ ویلنشیا ٹاؤن میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور شواہد، فرانزک رپورٹس اور اہل خانہ کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق حتمی نتائج سامنے آنے تک کسی بھی ایک وجہ یا نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے