بچوں کو پاکستان سے ڈاکٹر بنوانا چاہتا تھا ، اس لئے واپس لوٹا ، بیوی نفسیاتی مریضہ ، دوائی چھوڑ دی تھی ، ویلنیشیا میں قتل ہونے والے بچوں کے باپ کا بیان آگیا

لاہور( پنجاب پوسٹ ) لاہور کے علاقے کاہنہ ویلنشیاء ٹاؤن میں ماں اور تین کمسن بچوں کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بچوں کے والد ناصر کا بیان قلمبند کر لیا ہے، جبکہ فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر کے آئس کریم، شاپر، پارسل اور دیگر اشیاء لیبارٹری بھجوا دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے باریک بینی کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں اور کسی کو بھی اس مرحلے پر ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

پولیس کے مطابق بچوں کے والد ناصر نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گروسری لینے کے لیے گھر سے باہر گئے تھے۔ واپسی پر انہوں نے بیوی علینہ سے بچوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ بچے اپنی سہیلی فاطمہ کے ساتھ فلم دیکھنے گئے ہیں۔ ناصر کے مطابق انہوں نے بیوی سے کہا کہ بچوں کو اکیلے کیوں بھیجا، ہم بھی ساتھ جا سکتے تھے، جس پر بیوی نے انہیں آئس کریم کھانے کا کہا اور بتایا کہ انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔

ناصر کے مطابق وہ بیوی سے بات کر رہے تھے کہ اسی دوران دروازے پر گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولنے پر محلے داروں نے اطلاع دی کہ گھر کے پچھلے صحن میں بڑے شاپر میں بچے پڑے ہیں۔ وہ فوراً صحن کی طرف دوڑے تو دیکھا کہ تینوں بچے مردہ حالت میں شاپروں میں موجود تھے۔

والد کے مطابق انہوں نے بیوی کو تلاش کیا تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔ بعد ازاں واش روم کا دروازہ اندر سے بند ملا۔ دروازہ توڑنے پر علینہ بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔

ناصر نے اپنے بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی اہلیہ نے بچوں کو آئس کریم میں کوئی زہریلی چیز ملا کر کھلائی۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر آئس کریم کے کپوں کے قریب چوہے مار گولیاں اور زہر نما کیمیکل بھی موجود تھا، جسے پولیس نے قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھجوا دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون گزشتہ تین سال سے ذہنی بیماری کا شکار تھیں اور تقریباً چھ ماہ قبل انہوں نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس پہلو سمیت تمام ممکنہ محرکات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ کا دوبارہ معائنہ کیا ہے، جبکہ بچوں کو زہریلی چیز کھلائے جانے یا کسی اور طریقے سے ہلاکت کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون کے رشتہ داروں سے امریکہ اور کینیڈا میں بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ خاندانی پس منظر اور دیگر معلومات حاصل کی جا سکیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کے علاقے پسرور سے ہے۔ بچوں کے والد نے بیان میں کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور امریکہ کے مہنگے تعلیمی اخراجات کے باعث انہیں پاکستان میں ڈاکٹر بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار والد یا والدہ میں سے کسی ایک کو قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ تمام شواہد، فرانزک رپورٹس، پوسٹ مارٹم نتائج اور دیگر تفتیشی پہلوؤں کی روشنی میں ہی واقعے کی اصل حقیقت سامنے آئے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے