دنیاپور( پنجاب پوسٹ)بستی بشیر آباد میں سیوریج لائن کی بندش دور کرنے کے لیے کی جانے والی کھدائی ایک نئے تنازع کا سبب بن گئی۔ شہریوں کے مطابق معمول کی مرمت کے دوران مبینہ طور پر مین سیوریج لائن متاثر ہوگئی، جس سے گندا پانی گلی میں پھیل گیا جبکہ پوری گلی کی ٹف ٹائل بھی شدید نقصان کا شکار ہو گئی۔ واقعے پر اہلِ علاقہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف شفاف تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی گلی میں سیوریج لائن بند ہونے کی شکایت پر ٹی ایم اے کی ٹیم نے کھدائی شروع کی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کام کے دوران مین سیوریج لائن متاثر ہوگئی، جس کے باعث گندا پانی باہر نکل آیا اور گلی میں جمع ہونا شروع ہوگیا۔ اس صورتحال سے نہ صرف بدبو اور آلودگی میں اضافہ ہوا بلکہ شہریوں کو آمدورفت میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ مقام پر نیا مین ہول تعمیر کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی، تاہم اس دوران پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق بنی بنائی ٹف ٹائل کو اکھاڑ دیا گیا، جس سے گلی کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگی اور بچوں، بزرگوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے حادثات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ، کن کن علاقوں میں سیلاب آسکتا ہے؟ خطرے کی گھنٹی بج گئی
شہریوں نے اس کارروائی پر کئی اہم سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسئلہ صرف بند سیوریج لائن کا تھا تو نیا مین ہول بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس منصوبے کے لیے متعلقہ محکموں سے باقاعدہ منظوری، ٹینڈر اور تکنیکی اجازت حاصل کی گئی تھی؟ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ہر گلی میں معمولی بندش پر اسی انداز میں کھدائی کرکے مین ہول تعمیر کیے جائیں تو شہر کا انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوگا اور عوامی وسائل کا ضیاع ہوگا۔
متاثرہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ پہلے سے موجود سڑکوں اور گلیوں کو نقصان پہنچانا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر اس معاملے میں غفلت، اختیارات سے تجاوز یا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر لودھراں، اسسٹنٹ کمشنر دنیاپور، ٹی ایم اے حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے، متاثرہ مین سیوریج لائن کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت، گلی کی ٹف ٹائل کو اصل حالت میں بحال کرنے اور تمام تعمیراتی کاموں کی شفاف انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ عوامی املاک کو اس طرح نقصان پہنچانے کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔













