ملتان پولیس کا انوکھا کارنامہ: 7 سالہ بچے کو ہتھکڑیاں لگا کر کچہری کیوں لانا پڑا؟

ملتان( پنجاب پوسٹ) تھانہ بستی ملوک پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر سات سالہ بچے کو ہتھکڑیاں لگا کر کچہری پیش کیے جانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

ویڈیو میں کمسن بچے اورنگزیب کو ہتھکڑیوں میں عدالت لایا جاتا دیکھا جا سکتا ہے۔ بچے کی والدہ کا مؤقف ہے کہ ان کا بیٹا تیسری جماعت کا طالب علم ہے اور ہمسایوں کے ساتھ ہونے والے جھگڑے کے بعد اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا۔

ان کے مطابق بچے کے بے فارم کے مطابق عمر سات سال ہے۔والدہ نے مزید الزام عائد کیا کہ بچے کو رات بھر تھانے میں بھوکا رکھا گیا، جبکہ عدالت کے باہر وہ اسے گھر کا بنا ہوا دلیہ کھلاتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پتوکی: نیند میں گھر سے نکلنے والی 5 سالہ بچی کیسے ملی؟

واقعے کے بعد بچوں کے حقوق اور جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے مبینہ تقاضوں کی خلاف ورزی سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین اور سماجی حلقے اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب، اس معاملے پر ملتان پولیس کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ اگر پولیس کی جانب سے کوئی وضاحت یا ردعمل جاری کیا جاتا ہے تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے