کیا جدید پولیسنگ سے لاہور میں جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا؟ 13 مطلوب و مشکوک گاڑیاں برآمد

لاہور(پنجاب پوسٹ) میں جدید پولیسنگ اور ٹیکنالوجی کے امتزاج سے جرائم کی روک تھام کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر شہر بھر میں 20 خصوصی "غیر متحرک پوائنٹس” قائم کیے گئے، جہاں سیف سٹی کیمروں سے موصول ہونے والے الرٹس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے ڈولفن سکواڈ نے 13 مطلوب، مشکوک اور مختلف مقدمات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں برآمد کر لیں۔
ترجمان ڈولفن کے مطابق برآمد ہونے والی گاڑیوں میں 5 جعلی نمبر پلیٹ والی، ایک چوری شدہ، 3 ٹمپرڈ، 3 ای چلان والی اور ایک بلیک لسٹ گاڑی شامل ہے۔ ای چلان والی تین گاڑیوں کو جرمانہ ادا کرنے اور تصدیق مکمل ہونے کے بعد موقع پر ہی چھوڑ دیا گیا۔

ایس پی ڈولفن بلال احمد کا کہنا ہے کہ ڈولفن سکواڈ اور پی آر یو ٹیموں کی بروقت کارروائیوں سے جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر مؤثر نظر رکھی جا رہی ہے۔ کیمرہ کالز اور سیف سٹی الرٹس پر فوری رسپانس کے لیے لاہور کے حساس مقامات پر 20 سے زائد ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جس سے مطلوب، مشکوک، بلیک لسٹ اور چوری شدہ گاڑیوں کی نشاندہی اور گرفت ممکن ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید سرویلنس سسٹم اور فیلڈ فورس کے اشتراک سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ برآمد ہونے والی گاڑیوں کو قانونی کارروائی کے لیے تھانہ مسلم ٹاؤن، اقبال ٹاؤن، گلبرگ اور دیگر متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیف سٹی اور لاہور پولیس کی مشترکہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے اور کیمرہ الرٹس پر فوری کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے