پنجاب (پنجاب پوسٹ)کی جیلوں میں 24 گھنٹے ڈیوٹی کے باعث بڑھتے ہوئے جسمانی اور ذہنی مسائل کے پیش نظر انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے تمام جیل ملازمین کے لیے لازمی ہیلتھ اور نفسیاتی سکریننگ کا حکم جاری کر دیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کی تمام جیلوں میں رواں ہفتے سے ہیلتھ ٹیسٹ شروع کیے جائیں گے جبکہ ہر تین ماہ بعد باقاعدہ ہیلتھ سکریننگ کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔
جاری مراسلے کے مطابق تمام جیل ملازمین کا سالانہ میڈیکل چیک اپ لازمی ہوگا، جس میں بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول اور وزن کا معائنہ کیا جائے گا۔ ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کا شکار ملازمین کو مفت سائیکولوجیکل کونسلنگ فراہم کی جائے گی تاکہ ان کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کی مذاکرات کی پیشکش برقرار، تحریک انصاف کی عدم دلچسپی کا دعویٰ
آئی جی جیل نے ہدایت کی ہے کہ جیلوں میں ورزش، کھیلوں اور میڈیٹیشن جیسی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ ملازمین کا ذہنی دباؤ کم ہو۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی ملازم کو سر درد، چکر یا سینے میں درد کی شکایت ہو تو اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔
مزید برآں، ہر جیل میں افسران اور ملازمین کے جسمانی اور نفسیاتی معائنے کے بعد خفیہ ہیلتھ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ مراسلے میں سگریٹ نوشی سے اجتناب، متوازن غذا کے استعمال اور روزانہ ورزش کو اپنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق 24 گھنٹے ڈیوٹی کے مسلسل دباؤ کے باعث ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے امراض کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ متعدد ملازمین نے صحت سے متعلق شکایات بھی رپورٹ کی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر آئی جی جیل نے تمام ڈی آئی جیز اور سپرنٹنڈنٹس کو ہیلتھ اور نفسیاتی سکریننگ یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔








