لا ہور (پنجاب پوسٹ)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بلھے شاہ ایکسپریس کا داتا کی نگری لاہور سے افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ 15 سال قبل بند ہونے والی اس ٹرین کی عوام میں شدید طلب تھی، جسے مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے نئے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ مختلف شہروں میں نئی ٹرینیں چلانے، اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن اور ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ لاہور سے واہگہ تک نئی ٹرین چلانے کی تیاریاں جاری ہیں جبکہ راوی ایکسپریس بھی رواں ماہ 25 یا 30 تاریخ تک بحال کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے وسائل اور گنجائش میسر آئے گی، مزید ٹرینیں بھی چلائی جائیں گی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے کی بہتری کے لیے 32 کے بجائے 64 نئی کوچز شامل کی جائیں گی، لوکوموٹیوز کی اوورہالنگ کا عمل جاری ہے اور 43 جی یو لوکوموٹیوز کو فریٹ آپریشن کے لیے مختص کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات سے ریلوے کی کارکردگی اور آمدن میں کم از کم 32 فیصد اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:خانیوال: نئی ڈپٹی کمشنر متحرک، چارج سنبھالتے ہی فیلڈ میں پہنچ گئیں
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے دو ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ شاہدرہ سے رائے ونڈ تک ریلوے منصوبے کے لیے بھی پنجاب حکومت مالی تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خانیوال، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشنز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سیف اینڈ سمارٹ ریلوے اسٹیشن منصوبے کے تحت ایف ڈبلیو او کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر 184 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور، ملتان، خانیوال اور کراچی کے ریلوے اسٹیشنوں پر بھی جدید کیمروں کی تنصیب کی جائے گی۔
انہوں نے ریلوے کراسنگ گیٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے سندھ اور خیبرپختونخوا حکومتوں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ حنیف عباسی نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ اپنے دور میں ایم ایل ون سمیت اہم ریلوے منصوبوں پر پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر مملکت ملک رشید احمد نے کہا کہ بلھے شاہ ایکسپریس کی بحالی عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، کیونکہ ٹرین بند ہونے سے پاکپتن اور گردونواح کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عوام سے اپیل کی کہ بلھے شاہ ایکسپریس پر ٹکٹ لے کر سفر کریں تاکہ یہ سروس مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے۔









